ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / لوک سبھا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی

لوک سبھا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی

Sat, 18 Mar 2017 02:13:17    S.O. News Service

نئی دہلی:17/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)لوک سبھا میں آج اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی دکھی جب ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملکاارحن کھڑگے نے گوا میں بی جے پی کی حکومت بننے کا اور وہاں کی حکومت کا ذکر کیا۔حکومت نے اس پر اعتراض ظاہر کیا اور لوک سبھا کے نائب صدر ایم تبدرے نے بھی گورنر کے طرز عمل کا ذکر نہ کرنے کی بات کہی۔ایوان میں آج 2017-18کے لئے وزارت داخلہ کے گرانٹ مطالبات پر بحث کے دوران جب کھڑگے نے گوا میں بی جے پی کی حکومت بننے اور وہاں کے گورنر کے ایک خط کا ذکر کیا تو پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ یہ بحث وزارت داخلہ کے گرانٹ مطالبات پر ہے اور اس میں گورنر کے طرزعمل پربحث نہیں ہوسکتی۔آسن پر بیٹھے نائب صدر تبدرے نے بھی کہا کہ صدر سمترا مہاجن نے اس سلسلے میں ایک کاروائی التواء کی تجویزکے نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے حکم دیاتھا کہ کسی آئینی عہدے پر بیٹھے شخص کا ذکر ایوان میں کسی موضوع پر بحث میں نہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے آئینی شخص کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے دوسراطریقہ ہے۔کھڑگے نے گوا میں کانگریس کے زیادہ ممبران اسمبلی ہونے کے باوجود بی جے پی کی مخلوط حکومت بننے کے پس منظر میں کہا کہ ہم گورنر کے طرز عمل پر سوال نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ حکومت اس طرح سے غیر قانونی طریقے سے کام کیوں کررہی ہے۔کھڑگے نے کہا کہ جمہوریت کی حفاظت بھی محکمہ داخلہ کی ہی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہمیشہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی بات کرتے ہیں جنہوں نے آئین بنایاتھا لیکن آپ جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں۔کھڑگے نے کہا کہ وزیر داخلہ سے درخواست ہے کہ سب پر قانون کے مطابق کنٹرول رکھیں۔ملک کی حکومت  قانون کے حساب سے چلنی چاہئے۔اس دوران وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ایوان میں موجودتھے۔پارلیمانی امور کے وزیر نے کہا کہ لوک سبھا صدر نے اس سلسلے میں حکم دیاہے اور آج آپ نے(نائب تبدرے)نے بھی کہا ہے لیکن کھڑگے بار بار اپنی بات دہرا رہے ہیں اور وزارت داخلہ کے اہم مطالبات پر بحث نہیں کر رہے ہیں۔


Share: